hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 18736

.

كنز العمال

18736
Kanz al-Ummal
18736- عن ابن عباس أن أبا بكر الصديق خرج حين توفي رسول الله صلى الله عليه وسلم وعمر يكلم الناس، فقال: اجلس يا عمر، فتشهد ثم قال: أما بعد فمن كان منكم يعبد محمدا صلى الله عليه وسلم فإن محمدا قد مات، ومن كان منكم يعبد الله فإن الله تعالى حي لا يموت، فإن الله تعالى قال: {وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَفَإِنْ مَاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ} الآية، قال: والله لكأن الناس لم يعلموا أن الله أنزل هذه الآية حتى تلاها أبو بكر، فتلقاها منه الناس كلهم فما يسمع بشر من الناس إلا يتلوها، وقال عمر بن الخطاب: والله ما هو إلا أن سمعت أبا بكر تلاها فعقرت حتى ما تقلني رجلاي وحتى أهويت إلى الأرض وعرفت حين سمعته تلاها أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قد مات. "عب وابن سعد ش حم والعدني خ حب حل هق".
18736 ۔۔۔ حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جب حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ہوگئی تو سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) باہر نکلے ۔ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) لوگوں کو تقریر کر رہے تھے ۔ سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) کو فرمایا : اے عمر ! بیٹھ جاؤ ، چنانچہ سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے حمد وثناء کے بعد فرمایا : ما بعد ! جان لو ! جو شخص محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عبادت کرتا تھا تو وہ سمجھ لے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وفات پا گئے ہیں۔ اور جو شخص اللہ کی عبادت کرتا تھا تو اللہ پاک زندہ ہیں کبھی مریں گے نہیں ۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : (آیت)” وما محمد الا رسول قد خلت من قبلہ الرسل افان مات اوقتل انقلبتم علی اعقابکم “۔۔۔ الخ اور محمد صرف رسول ہی تو ہیں۔ آپ سے پہلے بہت سے رسول گذر چکے ہیں کیا پس اگر وہ وفات پاجائیں یا قتل ہوجائیں تو کیا تم اپنی ایڑیوں کے بل الٹے مڑ جاؤ گے ۔ حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) فرماتے ہیں : اللہ کی قسم ! اللہ کی قسم ! ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ گویا پہلے لوگوں کو علم نہ تھا کہ اللہ پاک نے یہ آیت بھی نازل فرمائی ہے۔ حتی کہ سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے اس کی تلاوت فرمائی ، تب لوگوں کو اس کا پتہ چلا ، تب ہر طرف ہر کوئی دوسرے کو اسی کو تلاوت کرتا سننے لگا ۔ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے ارشاد فرمایا : اللہ کی قسم ! جب میں نے یہ آیت سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) سے سنی تو بالکل میرے پاؤں کٹ گئے ۔ میری ٹانگوں نے میرا جھوٹ اٹھانے سے انکار کردیا ۔ اور میں زمین بوس ہوگیا ۔ کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) واقعتا وفات پا گئے ہیں۔ (مصنف عبدالرزاق ، ابن سعد ، مصنف ابن ابی شیبہ ، مسند احمد ، العدنی ، بخاری ، ابن حبان ، حلیۃ الاولیاء ، السنن للبیھقی)