1876 – "إن لله عز وجل سيارة من الملائكة، يبتغون حلق الذكر، فإذا مروا بحلق الذكر قال بعضهم لبعض: اقعدوا فإذا دعا القوم أمنوا على دعائهم فإذا صلوا على النبي صلى الله عليه وسلم صلوا معهم حتى يفرغوا ثم يقول بعضهم لبعض طوبى لهم لا يرجعون إلا مغفورا لهم". (ابن النجار عن أبي هريرة) .
١٨٧٦۔۔ اللہ کے کچھ فرشتے سیر کرتے ہیں اور ذکر کے حلقے تلاش کرتے ہیں پس جب کسی ذکر کے حلقہ پر ان کا گزر ہوتا ہے تو آپس میں ایک دوسرے کو کہتے ہیں، آؤ بیٹھ جاؤ۔ پھر جب قوم دعا میں مشغول ہوجاتی ہے تو وہ ان کی دعاؤں پرامین کہتے ہیں، جب قوم والے آپ پر درود بھیجتے ہیں تو یہ بھی ان کے ساتھ آپ پر درود بھیجتے ہیں حتی کہ جب وہ فارغ ہوجاتے ہیں تو یہ آپس میں ایک دوسرے کو ان کے متعلق کہتے ہیں ان کیلے خوشی کا مقام ہے کہ یہ بخشے بخشائے واپس لوٹ رہے ہیں۔ ابن النجار، بروایت ابوہریرہ۔