hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 18773

.

كنز العمال

18773
Kanz al-Ummal
18773- "مسند عمر رضي الله عنه" عن عكرمة قال: لما توفي رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالوا: إنما عرج بروحه كما عرج بروح موسى، وقام عمر خطيبا يوعد المنافقين وقال: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم لم يمت، ولكن إنما عرج بروحه كما عرج بروح موسى، لا يموت رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى يقطع أيدي أقوام وألسنتهم فلم يزل عمر يتكلم، حتى أزبد شدقاه فقال العباس: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم يأسن كما يأسن البشر، وإن رسول الله صلى الله عليه وسلم قد مات فادفنوا صاحبكم، أيميت أحدكم إماتة ويميته إماتتين هو أكرم على الله من ذلك، فإن كان كما تقولون فليس على الله بعزيز أن يبحث عنه التراب فيخرجه إن شاء الله، ما مات حتى ترك السبيل نهجا واضحا، أحل الحلال وحرم الحرام، ونكح وطلق وحارب وسالم، وما كان راعي غنم يتبع بها صاحبها رؤوس الجبال يخبط عليها العضاه بمخبطه، ويمدر حوضها بيده بأنصب ولا أدأب من رسول الله صلى الله عليه وسلم كان فيكم. "ابن سعد خ ق في الدلائل".
18773 ۔۔۔ (مسند عمر (رض)) حضرت عکرمہ (رح) سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ہوگئی تو لوگ کہنے لگے : پ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی روح اوپر (آسمانوں پر) چلی گئی ہے جس طرح موسیٰ (علیہ السلام) کی روح گئی تھی ۔ پھر حضرت عمر (رض) خطبہ دینے کھڑے ہوئے اور منافقوں کو ڈرانے لگے اور فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات نہیں ہوئی بلکہ آپ کی روح اوپر چلی گئی ہے جس طرح موسیٰ (علیہ السلام) کی روح گئی تھی ۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس وقت تک نہیں مرسکتے جب (منافق قوم کے) لوگوں کے ہاتھ پاؤں نہ کاٹ ڈالیں ۔ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) اسی طرح بات چیت فرماتے رہے حتی کہ شدت کی وجہ سے ان کی باچھیں چھینٹے مارنے لگیں ۔ حضرت عباس (رض) نے فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نعش مبارک کی حالت بھی متغیر ہوسکتی ہے عام انسانوں کی طرح ۔ چونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ہوچکی ہے۔ لہٰذا تم اپنے صاحب کی تدفین (کرنے میں تاخیر نہ) کرو۔ کیا تم میں سے ہر شخص ایک موت مرتا ہے اور حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دو موتیں مریں گے ؟ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے ہاں اس سے زیادہ مرتبہ والے ہیں۔ اگر ایسا ہے جیسا تم کہہ رہے ہو کہ (آپ کی موت نہیں ہوئی) تو اللہ کے لیے مشکل نہیں ہے کہ آپ کے (زندہ ہونے کی صورت میں) آپ کی قبر کو اکھاڑ کر آپ کو نکال دے ۔ ان شاء اللہ رسول تب ہی مرے ہیں جب آپ نے ہمارے لیے بالکل واضح اور سچا راستہ چھوڑ دیا ہے۔ حلال کو حلال قرار دیا ہے اور حرام کو حرام متعارف کرا دیا ہے۔ آپ نے نکاح کیے، طلاق دی ، جنگ اور مصالحت کی ، اور بکریوں کا چرواہا اپنے بکریوں کے پیچھے چلتا ہے اور ان کی نگہبانی کرتا ہے حتی کہ پہاڑ کی چوٹی تک ان کے پیچھے جاتا ہے ان کی راہ میں آنے والی جھاڑ جھنکار صاف کرتا ہے اور ان کے حوض کو اپنے ہاتھ سے گچ (لیپ) کرتا ہے۔ اسی طرح رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تم میں سب سے زیادہ ادب سکھانے والے تھے ۔ (ابن سعد ، بخاری ، البیہقی فی الدلائل)