18774- عن أنس بن مالك أنه سمع عمر بن الخطاب الغد حين بويع أبو بكر في مسجد رسول الله صلى الله عليه وسلم، واستوى أبو بكر على منبر رسول الله صلى الله عليه وسلم تشهد قبل أبي بكر ثم قال: أما بعد فإني قلت لكم أمس مقالة لم تكن كما قلت وإني والله ما وجدتها في كتاب أنزله الله ولا في عهد عهده إلي رسول الله صلى الله عليه وسلم ولكن كنت أرجو أن يعيش رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال كلمة يريد حتى يكون آخرنا فاختار الله لرسوله الذي عنده على الذي عندكم، وهذا الكتاب الذي هدى الله به رسولكم فخذوه تهتدوا لما هدي له رسول الله صلى الله عليه وسلم. "خ هق في الدلائل".
18774 ۔۔۔ حضرت انس بن مالک (رض) سے مروی ہے کہ انھوں نے سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) کو آئندہ روز تقریر کرتے سنا ، جب سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) کی مسجد میں بیعت کی گئی اور ابوبکر پر چڑھے ، اس سے پہلے سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے حمد وثناء اور خدا اور رسول کی شہادت دی ، پھر اما بعد کے بعد فرمایا : میں نے کل گزشتہ روز تم سے بات کی تھی جو حقیقت نہ تھی ۔ اللہ کی قسم ! میں نے اس کو کتاب اللہ میں پایا اور نہ اس عہد میں جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھ سے کر گئے تھے ۔ لیکن مجھے امید تھی کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور جئیں گے ، پس آپ نے ایسی بات کہی اور ارشاد فرمائی جس سے (شاید) آپ کی مراد ہماری آکر تھی ۔ خیر اللہ نے اپنے رسول کے لیے وہ شئی پسند کرلی جو اس کے پاس ہے بہ نسبت اس کے جو ہمارے پاس ہے۔ اب یہ کتاب ہے جس کے ساتھ اللہ نے تمہارے نبی کو ہدایت دی پس تم بھی اس کو تھام لو اور تم کو بھی وہی ہدایت ملے گی جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ملی تھی ۔ (بخاری ، البیھقی فی الدلائل)