18791- عن أبي غطفان قال: سألت ابن عباس أرأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم توفي ورأسه في حجر أحد؟ قال: توفي وهو إلى صدر علي؟ قلت: فإن عروة حدثني عن عائشة أنها قالت: توفي رسول الله صلى الله عليه وسلم بين سحري ونحري، فقال ابن عباس: أتعقل والله لتوفي رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو مستند إلى صدر علي وهو الذي غسله وأخي الفضل بن عباس وأبى أبي أن يحضر وقال: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يأمرنا أن نستتر فكان عند السترة."ابن سعد، وسنده ضعيف".
18791 ۔۔۔ ابو غطفان سے مروی ہے کہ میں نے حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) سے سوال کیا کہ آپ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو وفات کے وقت دیکھا کہ کس کی گود میں آپ کا سر تھا ؟ حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) نے فرمایا : حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ہوئی تو آپ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) کے سینے کے ساتھ ٹیک لگائے ہوئے تھے ۔ میں نے کہا کہ عروۃ (رح) حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) سے روایت کرتے ہیں حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) فرماتی ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات میرے سینے اور حلق کے درمیان (ٹیک لگائے ہوئے) ہوئی تھی ۔ حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) نے فرمایا : کیا تم عقل رکھتے ہو ۔ اللہ کی قسم ! حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ہوئی تو آپ نے حضرت علی (رض) کے سینے کے ساتھ ٹیک لگا رکھی تھی ۔ آپ (رض) اور میرے بھائی فضل بن عباس نے آپ (رض) کو غسل دیا تھا ، میرے والد نے (غسل کی جگہ آنے سے) انکار کردیا تھا اور فرمایا تھا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہم کو حکم دیا تھا کہ ہم پردہ رکھیں ۔ لہٰذا وہ پردے کے اس طرف بیٹھے تھے ۔ (رواہ ابن سعد) کلام : ۔۔۔ اس روایت کی سند ضعیف ہے۔