18796- عن علي أن رسول الله صلى الله عليه وسلم لما ثقل قال: يا علي، ائتني بطبق أكتب فيه ما لا تضل أمتي بعدي، فخشيت أن تسبقني نفسه، فقلت: إني أحفظ ذراعا من الصحيفة، فكان رأسه بين ذراعي وعضدي فجعل يوصي بالصلاة والزكاة وما ملكت أيمانكم، قال كذلك حتى فاضت نفسه وأمر شهادة أن لا إله إلا الله وأن محمدا عبده ورسوله حتى فاضت نفسه من شهد بها حرم على النار. "ابن سعد".
18796 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب بوجھل ہوگئے تو فرمایا : اے علی ! میرے پاس کوئی تختہ لاؤ جس میں میں کچھ لکھ دوں تاکہ میری امت میرے بعد گمراہ نہ ہو ۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) فرماتے ہیں : مجھے ڈر ہوا کہ کہیں مجھ سے پہلے آپ کی جان نہ نکل جائے ۔ اس لیے میں نے عرض کیا : میں بازو پر لکھتا جاتا ہوں ۔ اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا سر میرے بازو اور کہنی کے درمیان تھا ۔ پس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وصیت کرتے جاتے تھے آپ نے نماز ، زکوۃ اور غلاموں کے ساتھ خیر خواہی کی وصیت کی پھر آپ کی سانسیں اٹکنے لگیں اور آپ نے ” اشھد ان لا الہ الا اللہ وان محمدا عبدہ ورسولہ “۔ پڑھا پھر سانس اٹکی اور آپ نے فرمایا جس نے اس کلمے کی شہادت دی اس پر جہنم کی آگ حرام کردی گئی ۔ (رواہ ابن سعد)