hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 18797

.

كنز العمال

18797
Kanz al-Ummal
18797- عن عبد الله بن الحارث أن عليا لما قبض النبي صلى الله عليه وسلم قام فأرتج الباب قال: فجاء العباس معه بنو عبد المطلب فقاموا على الباب وجعل علي يقول: بأبي أنت طبت حيا وميتا، قال: وسطعت ريح طيبة لم يجدوا مثلها قط، قال: فقال العباس لعلي: دع حنينا كحنين المرأة وأقبلوا على صاحبكم، فقال علي: أدخلوا علي الفضل، قال: وقالت الأنصار نناشدكم الله في نصيبنا من رسول الله صلى الله عليه وسلم فأدخلوا رجلا منهم يقال له أوس بن خولي يحمل جرة بإحدى يديه، قال: فغسله علي يدخل يده تحت القميص، والفضل يمسك الثوب عليه والأنصاري ينقل الماء، وعلى يد علي خرقة، يدخل يده وعليه القميص. "ابن سعد"
18797 ۔۔۔ عبداللہ بن الحارث سے مروی ہے کہ جب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ہوگئی تو (قریب بیٹھے) سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) اٹھ کھڑے ہوئے اور دروازہ پر تیز دستک ہوئی اور عباس بنو عبدالمطلب کے ساتھ تشریف لائے اور دروازے کے پاس کھڑے ہوگئے ۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) فرما رہے تھے : میرے (ماں) باپ آپ پر فدا ہوں ، آپ نے کس قدر اچھی زندگی بسر کی اور کس قدر اچھی موت پائی ، راوی کہتے ہیں : اس وقت بہت اچھی ہوا چلی پہلے کسی نے ایسی ہوا نہ محسوس کی ہوگی ، حضرت عباس (رض) نے سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) کو فرمایا : چھوڑو عورتوں کو رونے دو تم ہمارے بھی کچھ حصہ کا خیال کرو ۔ چنانچہ انھوں نے بھی اپنا ایک آدمی جس کو اوس بن خولی کہا جاتا تھا جو (بھرا ہوا) مٹکا ایک ہاتھ میں اٹھالیتا تھا ، کو اندر بھیج دیا ۔ پھر سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو غسل دیا ، قمیص کے نیچے سے ہاتھ ڈال کر غسل دیتے رہے ۔ فضل آپ پر کپڑا تانے کھڑے رہے اور انصاری پانی ڈھوتا رہا ۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) کے ہاتھ پر کپڑا بھی لپٹا ہوا تھا ۔ اس کپڑے کے ساتھ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قمیص کے نیچے ہاتھ ڈالتے تھے ۔ (اس طرح غسل دیا گیا ) ۔ (رواہ ابن سعد)