18798- عن عبد الواحد بن أبي عون قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لعلي بن أبي طالب في مرضه الذي توفي فيه: اغسلني يا علي إذا مت، فقال: يا رسول الله ما غسلت ميتا قط، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إنك ستهيأ أو تيسر، قال علي: فغسلته، فما آخذ عضوا إلا تبعني والفضل آخذ بحضنه يقول: اعجل يا علي انقطع ظهري. "ابن سعد"
18798 ۔۔۔ عبدالواحد بن ابی عون سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا جس مرض میں انتقال ہوا اسی مرض کی حالت میں آپ (رض) نے حضرت علی (رض) کو ارشاد فرمایا : اے علی ! جب میں مرجاؤں تو مجھے تم خود غسل دینا ۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں نے تو کبھی کسی میت کو غسل دیا ہی نہیں ۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تمہاری مدد کی جائے گی ۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) فرماتے ہیں پھر میں نے آپ کو غسل دیا ۔ میں جس عضو کو بھی پکڑتا وہ گویا میرا حکم مانتا تھا ۔ جبکہ فضل نے آپ کی کمر پکڑی ہوئی تھی اور وہ کہہ رہے تھے ۔ اے علی ! جلدی جلدی ! جلدی ! میری کمر ٹوٹی جا رہی ہے۔ (رواہ ابن سعد)