18823- عن أنس قال: لم يخرج إلينا رسول الله صلى الله عليه وسلم ثلاثا فأقيمت الصلاة وذهب أبو بكر يصلي بالناس فرفع النبي صلى الله عليه وسلم الحجاب فما رأينا منظرا أعجب إلينا منه حين وضح لنا وجه رسول الله صلى الله عليه وسلم فأومى النبي صلى الله عليه وسلم إلى أبي بكر أن يقوم وأرخى الحجاب، فلم ير حتى مات. "ع وابن خزيمة".
18823 ۔۔۔ حضرت انس بن مالک (رض) سے مروی ہے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تین دن تک ہماری طرف نکل کر تشریف نہ لائے ، نماز قائم ہوتی رہی ۔ سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) لوگوں کو نماز پڑھاتے رہے ۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پردہ اٹھایا تو اس وقت ہم نے اس سے اچھا کوئی نظارہ نہیں دیکھا جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا چہرہ ہم پر کھلا ۔ پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) کو اشارہ فرمایا کہ کھڑے رہیں خود پردہ گرا دیا ۔ اس کے بعد آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زیارت نصیب نہ ہوئی حتی کہ آپ وفات پاگئے ۔ (مسند ابی یعلی ، ابن خزیمۃ)