18822- عن أنس قال: لما مرض رسول الله صلى الله عليه وسلم مرضه الذي مات فيه أتاه بلال فآذنه بالصلاة، فقال: يا بلال قد بلغت فمن شاء فليصل ومن شاء فليدع، قال: يا رسول الله فمن يصلي بالناس؟ قال: مروا أبا بكر فليصل بالناس، فلما تقدم أبو بكر رفعت الستور عن رسول الله صلى الله عليه وسلم فنظرنا إليه كأنه ورقة بيضاء عليه خميصة سوداء، فظن أبو بكر أنه يريد الخروج فتأخر فأشار إليه رسول الله أن صل مكانك فصلى أبو بكر فما رأينا رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى مات من يومه. "ع كر".
18822 ۔۔۔ حضرت انس بن مالک (رض) سے مروی ہے جب حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے مرض الوفات میں مبتلا ہوئے تو حضرت بلال (رض) نے آکر آپ کو نماز کی اطلاع دی ۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے بلال ! تم نے پیغام دے دیا ۔ جو چاہے نماز پڑھ لے اور جو چاہے چھوڑ دے ۔ (یعنی تم مجھے چلنے پر مجبور نہ کرو) حضرت بلال (رض) نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پھر لوگوں کو نماز کون پڑھائے گا ؟ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ابوبکر کو کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا دیں ، جب سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) نماز کے لیے آگے بڑھے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آگے سے پردہ اٹھا ۔ حضرت انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں : ہم نے آپ کے چہرے کی طرف دیکھا تو گویا وہ ایک سفید ورقہ تھا آپ پر سیاہ قمیص پڑی ہوئی تھی ۔ سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) سمجھے شاید آپ نکلنا چاہتے ہیں لہٰذا وہ پیچھے ہٹنے لگے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اشارہ فرمایا کہ اپنی جگہ رہ کر نماز پڑھاؤ ۔ پس سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے نماز پڑھائی ، پھر ہم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دوبارہ نہیں دیکھا حتی کہ آپ کا انتقال ہوگیا ۔ (مسند ابی یعلی ، ابن عساکر)