18834- عن عائشة قالت: ما مر علي ليلة مثل ليلة مات رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: يا عائشة هل طلع الفجر؟ فأقول: لا يا رسول الله حتى إذا أذن بلال بالصبح، ثم جاء بلال فقال: السلام عليك يا رسول الله ورحمة الله وبركاته، الصلاة يرحمك الله، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: ما هذا؟ فقلت: بلال، فقال: مري أباك يصلي بالناس. "أبو الشيخ في الأذان".
18834 ۔۔۔ حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) سے مروی ہے جس رات حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فوت ہوئے ایسی کوئی رات مجھ پر کبھی نہیں گذری ۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (بار بار) پوچھ رہے تھے ۔ اے عائشہ ! کیا فجر طلوع ہوگئی ہے ، میں کہتی رہی نہیں یا رسول اللہ حتی کہ بلال نے صبح کی اذان دی اور پھر آئے اور عرض کیا : (السلام علیک یا رسول اللہ و رحمۃ اللہ وبرکاتہ) نماز کا وقت ہوگیا ہے اللہ آپ پر رحم کرے ۔ پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا یہ کون ہے ؟ میں نے کہا بلال ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اپنے والد (ابوبکر (رض)) کو کہو کہ لوگوں کو نماز پڑھا دیں ۔ (ابوالشیخ فی الاذان)