18835- عن عائشة قالت: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يعوذ بهذه الكلمات: أذهب البأس رب الناس، واشف أنت الشافي لا شفاء إلا شفاؤك شفاء لا يغادر سقما، فلما ثقل رسول الله صلى الله عليه وسلم في مرضه الذي مات فيه أخذت بيده فجعلت أمسحها وأقولها، فنزع يده من يدي وقال: اللهم ألحقني بالرفيق الأعلى، فكان هذا آخر ما سمعت من كلامه. "ش وابن جرير".
18835 ۔۔۔ حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) سے مروی ہے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کلمات کے ساتھ (بیماری وغیرہ سے) تعوذ فرمایا کرتے تھے : ” اذھب الباس رب الناس ، واشف انت الشافی لا شفاء الا شفاء ک شفاء لا یغادر سقما “۔ ے لوگوں کے رب تکلیف کو ختم فرما ، تو ہی شفا دینے والا ہے تیرے سوا کسی کی شفاء نہیں ، پس ایسی شفاء دے جو بیماری کو بالکل نہ چھوڑے ۔ چنانچہ میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ہاتھ پکڑ کر یہ کلمات پڑھنے لگی تو آپ نے اپنا ہاتھ مجھ سے چھڑا لیا اور فرمایا : ” اللم الحقنی بالرفیق الاعلی “۔ ے اللہ مجھے رفیق اعلی (اچھے دوست) کے ساتھ ملا دے (یعنی اپنا وصل عطا کر) پس یہ آخری بات تھی جو میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنی ۔ (ابن ابی شیبۃ ، ابن جریر)