18840- عن أسماء بنت عميس قالت: أول ما اشتكى رسول الله صلى الله عليه وسلم في بيت ميمونة فاشتد مرضه حتى أغمي عليه، فتشاور نساؤه في لده فلدوه
فلما أفاق قال: ما هذا؟ أفعل نساء جئن من ها هنا، وأشار إلى أرض الحبشة، وكانت فيهن أسماء بنت عميس، فقالوا: كنا نتهم بك ذات الجنب يا رسول الله، قال: إن ذلك لداء ما كان الله ليعذبني به لا يبقين في البيت أحد إلا لد إلا عم رسول الله صلى الله عليه وسلم يعني عباسا، فلقد ألدت ميمونة يومئذ وإنها لصائمة لعزيمة رسول الله صلى الله عليه وسلم. "كر".
18840 ۔۔۔ اسماء بنت عمیس (رض) سے مروی ہے پہلی مرتبہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میمونہ (رض) کے گھر میں بیمار ہوئے ، آپ کے مرض کی شدت ہوگئی اور آپ بےہوش ہوگئے ، آپ کی بیویوں نے آپ کے بارے میں مشورہ کیا اور آپ کو منہ میں دوا ٹپکا دی پھر آپ ہوش میں آگئے آپ نے پوچھا : یہ کیا ہے ؟ کیا ان عورتوں کا کام جو وہاں سے آئی ہیں (حبشہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ۔ ان میں اسماء بنت عمیس بھی تھیں) قریب موجود لوگوں نے کہا : یا رسول اللہ ! ہم سمجھے تھے کہ آپ کو ذات الجنب (غونیہ ) ہے۔ (اس لیے ہم نے دوا آپ کے منہ میں ٹپکا دی) حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ منہ میں ٹپکانے والی دوا ، اللہ پاک مجھے اس کے ساتھ عذاب دینے والا نہیں ہے۔ لہٰذا (اس کی سزا میں) یہاں موجود سب لوگوں کو یہ دوا منہ میں ٹپکا کر پلائی جائے سوائے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چچا عباس کے ۔ پس سب کو وہ دوا پلائی گئی حتی کہ میمونہ جو اس دن روزہ دار تھیں انھوں نے بھی پی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عزیمت (و خوشی) میں ۔ (رواہ ابن عساکر)