18859- أول ما افترض الله على أمتي الصلوات الخمس، وأول ما يرفع من أعمالهم الصلوات الخمس، وأول ما يسألون عنه الصلوات الخمس فمن كان ضيع شيئا منها يقول الله تعالى: انظروا هل تجدون لعبدي نافلة من صلاة تتمون بها ما نقص من الفريضة، وانظروا في صيام عبدي شهر رمضان فإن كان ضيع شيئا منه، فانظروا هل تجدون لعبدي نافلة من صيام تتمون بها ما نقص من الصيام، وانظروا في زكاة عبدي، فإن كان ضيع شيئا منها فانظروا هل تجدون لعبدي نافلة من صدقة تتمون بها ما نقص من الزكاة، فيؤخذ ذلك على فرائض الله، وذلك برحمة الله وعدله، فإن وجد فضلا وضع في ميزانه، وقيل له: ادخل الجنة مسرورا، فإن لم يوجد له شيء من ذلك أمرت به الزبانية فأخذوا بيديه ورجليه، ثم قذف به في النار. "الحاكم في الكنى عن ابن عمر".
18859 ۔۔۔ پہلی چیز جو اللہ تبارک وتعالیٰ نے میری امت پر فرض فرمائی وہ پانچ نمازیں ہیں۔ سب سے پہلی چیز جو ان کے اعمال میں سے اٹھائی جائے گی وہ پانچ نمازیں ہیں۔ اور سب سے پہلی چیز جس کے بارے میں لوگوں سے باز پرس ہوگی وہ پانچ نمازیں ہیں۔ جس شخص نے ان نمازوں میں کچھ نمازیں ضائع کی ہوگی پروردگار فرمائیں گے ! دیکھو میرے بندے کے پاس کچھ نفل نمازیں ہیں ان کے ساتھ اس کے فرضوں کو پورا کر دو ۔ اور دیکھو میرے بندے کے رمضان کے روزوں کو ، اگر ان میں سے کچھ روزے ضائع کیے ہیں تو دیکھو اس کے پاس نفلی روزے ہیں ان کے ساتھ تم اس کے فرض روزوں کا نقصان پورا کر دو ۔ اور دیکھو میرے بندے کی زکوۃ کو ، اگر اس میں سے کچھ ضائع کیا ہے تو دیکھو میرے بندے کے پاس نفلی صدقات ہیں ان کے ساتھ م اس کے فرض صدقہ (زکوۃ ) کی کمی کو پورا کر دو ۔ پس یوں نفلی عبادات کے ساتھ اللہ کے فرائض کی کمی کو پورا کیا جائے گا ۔ یہ محض اللہ کی رحمت اور اس کے عدل کے طفیل ہوگا ۔ پھر اگر زائد کوئی عبادت بچ جائے گی تو اس زائد عبادت کو بندے کے میزان میں رکھ دیا جائے گا اور اس کو کہا جائے گا کہ خوشی خوشی جنت میں داخل ہوجا ۔ اگر (فرض میں کمی کے ساتھ) نفلی عبادات بھی نہیں ہیں تو زبانیہ (جہنم کے فرشتوں) کو حکم دیا جائے گا وہ اس کو ہاتھوں اور پیروں سے پکڑ کر جہنم میں پھینک دیں گے ۔ (الحاکم فی الکنی عن ابن عمر (رض))