19601- إذا صليت الصبح فأقصر عن الصلاة حتى ترتفع الشمس فإنها تطلع بين قرني شيطان، ثم الصلاة محضورة متقبلة حتى ينتصف النهار، فإذا انتصف النهار فأقصر عن الصلاة حتى تميل الشمس فإن حينئذ تسعر جهنم، وشدة الحر من فيح جهنم، فإذا زالت الشمس فالصلاة مشهودة محضورة متقبلة حتى تصلي العصر، فإذا صليت العصر فأقصر عن الصلاة حتى تغيب الشمس، ثم الصلاة مشهودة محضورة متقبلة حتى تصلي الصبح. "ق عن أبي هريرة".
19601 ۔۔۔ جب تم صبح کی نماز پڑھ لے تو نماز سے رک جا حتی کہ سورج بلند ہوجائے۔ کیونکہ وہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے۔ پھر نماز پڑھنا مقبولیت اور (ملائکہ کی) حضوری کا سبب ہے حتی کہ نصف النہار ہوجائے ۔ جب نصف النہار ہوجائے تو نماز سے رک جا حتی کہ سورج (درمیان سے مغرب کو) مائل ہوجائے ۔ کیونکہ نصف النہار کے وقت جہنم بھڑکائی جاتی ہے اور گرمی کی شدت بھی جہنم کی لپٹ سے پیدا ہوتی ہے۔ پس جب سورج (مغرب کو) زائل ہوجائے تو (اس وقت کی) نماز قبولیت اور (ملائکہ کی) حضوری کا سبب ہے حتی کہ تو عصر کی نماز پڑھے ۔ جب تو عصر کی نماز پڑھ لے تو نماز سے رک جا حتی کہ سورج غروب ہو۔ پھر نماز پڑھنا حضوری و قبولیت کا سبب ہے حتی کہ تو صبح کی نماز پڑھے ۔ (السنن للبیہقی عن ابوہریرہ (رض))