hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 19602

.

كنز العمال

19602
Kanz al-Ummal
19602- أقرب ما يكون الرب عز وجل من العبد في جوف الليل، فإن استطعت أن تكون ممن يذكر الله في تلك الساعة فكن، فإن الصلاة محضورة مشهودة إلى طلوع الشمس، فإنها تطلع بين قرني شيطان وهي ساعة صلاة الكفار، فدع الصلاة حتى ترتفع قيد رمح ويذهب شعاعها، ثم الصلاة محضورة مشهودة حتى تعتدل الشمس اعتدال الرمح نصف النهار فإنها ساعة تفتح فيها أبواب جهنم، وتسجر، فدع الصلاة حتى يفيء الفيء، ثم الصلاة محضورة مشهودة حتى تغيب الشمس فإنها تغرب بين قرني شيطان وهي صلاة الكفار. "ق عن أبي أمامة عن عمرو بن عبسة".
19602 ۔۔۔ پروردگار اپنے بندے سے قریب ترین رات کے درمیان میں ہوتا ہے۔ اگر تجھ سے ہو سکے کہ تو ان لوگوں میں شامل ہوجائے جو اس گھڑی میں اللہ کو یاد کرتے ہیں تو ضرور ایسا کر۔ بیشک اس وقت نماز پڑھنا طلوع شمس تک ملائکہ کی حضوری کا سبب ہے۔ بیشک سورج شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے اور یہ وقت کفار کی نماز کا ہے۔ لہٰذا اس وقت نماز چھوڑ دے حتی کہ سورج ایک نیزے کے بقدر بلند ہوجائے اور اس سے شعاعیں پھوٹنے لگیں ، پھر نماز پڑھنا (ملائکہ کی) حضوری کا سبب ہے۔ حتی کہ سورج نصف النہار میں اعتدال کو آجائے نیزے کے اعتدال کے برابر ۔ (یعنی نیزہ کھڑا کریں تو اس کا سایہ گرے نہیں) یہ گھڑی ایسی ہے جس میں جہنم کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم کو بھڑکایا جاتا ہے۔ لہٰذا اس وقت نماز چھوڑ دے ۔ حتی کہ سایہ ڈھل جائے ۔ پھر نماز پڑھنا ملائکہ کی حضوری کا سبب ہے۔ حتی کہ سورج غروب ہو، بیشک سورج شیطان کے دو سینگوں کے درمیان غروب ہوتا ہے۔ اور کفار کی نماز (کا وقت) ہے۔ مالسنن للبیہقی عن ابی امامۃ عن عمرو بن عبسۃ)