20313- ما من مسلم يتوضأ للصلاة فيمضمض، إلا خرج مع قطر الماء كل سيئة تكلم بها لسانه، ولا يستنشق إلا خرج مع قطر الماء كل سيئة، وجد ريحها بأنفه، ولا يغسل وجهه إلا تناثر من عينيه مع قطر الماء كل سيئة نظر إليها بهما، ولا يغسل شيئا من يديه إلا خرج مع قطر الماء كل سيئة بطش بهما، ولا يغسل شيئا من رجليه إلا خرج مع قطر الماء كل سيئة مشى بهما إليها، فإذا خرج إلى المسجد كتب له بكل خطوة خطاها حسنة ومحي عنه بها سيئة حتى يأتي مقامه. "طس عن أبي هريرة".
20313 ۔۔۔ کوئی بندہ مسلم ایسا نہیں جو نماز کے واسطے وضو کرے پھر کلی کرے مگر پانی کے (بہنے والے) قطروں کے ساتھ اس کے وہ گناہ جن کو اس کی زبان نے بولا ہو خارج ہوجاتے ہیں ، پھر جب ناک میں پانی چڑھاتا ہے تو بہنے والے پانی کے ساتھ اس کے وہ گناہ خارج ہوجاتے ہیں جن کی خوشبو اس کے ناک نے سونگھی ہو ، جب چہرہ دھوتا ہے تو اس کی آنکھوں سے بہنے والے پانی کے ساتھ وہ خارج ہوجاتے ہیں جن کی طرف اس کی آنکھوں نے دیکھا ہو، جب وہ ہاتھ دھوتا ہے تو پانی کے بہنے والے قطروں کے ساتھ وہ سب گناہ گرجاتے ہیں ، جن کو اس کے ہاتھوں نے پکڑا ہو اور جب وہ پاؤں دھوتا ہے تو پاؤں سے بہنے والے پانی کے قطروں کے ساتھ اس کے وہ سب گناہ دھل جاتے ہیں جن کی طرف اس کے قدم چل کر گئے ہوں ، پھر جب وہ مسجد کی طرف نکلتا ہے تو اس کے ہر قدم کے عوض ایک نیکی لکھی جاتی ہے اور ایک برائی مٹائی جاتی ہے حتی کہ وہ واپس اپنے گھر لوٹ آئے۔ (الاوسط للطبرانی عن ابوہریرہ (رض))