20314- ما من رجل يحسن الوضوء فيغسل يديه ورجليه ووجهه ثم يمضمض فاه، ثم يتوضأ كما أمره الله تعالى إلا حط عنه عمل يومه ما نطق فوه ومشى إليه حتى أن الذنوب لتتحادر عن أطرافه، ثم إذا مشى إلى المسجد كانت له بكل خطوة يخطوها حسنة، ثم تكون صلاته له نافلة، ثم إذا هو دخل على أهله فسلم عليهم وأخذ مضجعه كانت له قيام ليلته. "ابن السني عن أبي أمامة".
20314 ۔۔۔ کوئی بندہ نہیں جو اچھی طرح وضو کرے ، اپنے ہاتھوں ، پیروں اور چہرے کو دھوئے ، پہلے کلی کرے پھر جس طرح اللہ نے وضو کا حکم دیا ہے وضو مکمل کرے مگر اس سے اس دن کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں جن کو اس کی زبان نے بولا ہو یا ان کی طرف اس کے قدم چل کر گئے ہوں حتی کہ (تمام) گناہ اس کے اعضاء سے گرجاتے ہیں۔ پھر جب وہ مسجد کی طرف نکلتا ہے تو اس کے ہر قدم کے عوض جو وہ مسجد کی طرف اٹھاتا ہے ایک نیکی لکھی جاتی ہے۔ پھر اس کی نماز زائد ثواب بن جاتی ہے پھر وہ اپنے گھر لوٹتا ہے اور ان پر سلام کرتا ہے اور اپنے بستر پر لیٹ جاتا ہے تو اس کو ساری رات عبادت کا ثواب لکھا جاتا ہے۔ ابن السنی عن ابی امامۃ)