20315- ما من عبد يتوضأ فيغسل وجهه إلا تساقطت خطايا وجهه من أطراف لحيته، فإذا غسل يديه تساقطت خطايا يديه من بين أظفاره، فإذا مسح برأسه تساقطت خطايا رأسه من أطراف شعره، فإذا غسل رجليه تساقطت خطايا رجليه من باطنهما، فإذا أتى مسجد جماعة فصلى فيه فقد وقع أجره على الله، فإن قام فصلى ركعتين كانتا كفارة.
"عبد الرزاق عن عمرو بن عبسة".
20315 ۔۔۔ جب بندہ وضو کرتا ہے پھر اپنا چہرہ دھوتا ہے تو اس کے چہرے کی خطائیں اس کی ڈاڑھی کے اطراف سے خارج ہوجاتی ہیں جب وہ ہاتھ دھوتا ہے تو اس کے ہاتھوں کی خطائیں اس کے ناخنوں کے درمیان سے خارج ہوجاتی ہیں ، جب وہ سر کا مسح کرتا ہے تو اس کے سر کی خطائیں اس کے بالوں کے اطراف سے نکل جاتی ہیں اور جب وہ پاؤں دھوتا ہے تو اس کے پاؤں کی خطائیں اس کے پاؤں کے نیچے سے نکل جاتی ہیں پھر جب وہ جماعت والی مسجد میں آتا ہے اور اس میں (جماعت کے ساتھ) نماز پڑھتا ہے تو اس کا اجر اللہ پر لازم ہوجاتا ہے ، پھر اگر وہ کھڑا ہو کر دو رکعت نفل پڑھتا ہے یہ رکعات اس کے لیے کفارہ بن جاتی ہیں۔ (عبدالرزاق عن عمرو بن عبسہ)