21618- عن عمر قال: جاء رجل فقال: "يا رسول الله أي شيء عند الله في الإسلام؟ " قال: "الصلاة لوقتها، ومن ترك الصلاة فلا دين له، الصلاة عماد الدين". "هب".
21621 ۔۔۔ نافع (رح) سے روایت ہے کہ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے اپنے گورنروں کو (تاکید کے ساتھ) لکھ بھیجا تھا کہ : میرے نزدیک نماز اہم ترین چیز ہے سو جس نے نماز کی حفاظت کی اور اس پر پابندی کی اس نے اپنے دین کو محفوظ کرلیا ، جس نے نماز کو ضائع کیا اس نے اپنے آپ کو ضائع کردیا ۔ اس کے بعد لکھتے ۔ ظہر کا وقت سایہ کا ایک ذراع ہونے سے ایک مثل ہونے تک ہے عصر کا وقت سورج کے بالکل صاف ہونے سے شروع ہوتا ہے حتی کہ کوئی سوار دو یا تین فرسخ سفر کرلے ، مغرب سورج غروب ہونے پر پڑھی جائے عشاء شفق کے غائب ہونے سے تہائی رات تک پڑھی جائے ، سو جو سونا چاہیے اللہ کرے اس کی آنکھ نہ سوئے ، جو سونا چاہے اللہ کرے اس کی آنکھ نہ سوئے ، جو سونا چاہیے اللہ کرے اس کی آنکھ نہ سوئے صبح کی نماز اس وقت پڑھی جائے جب ستارے ٹمٹا رہے ہوں سو جو اس وقت بھی سو جائے اللہ کرے اس کی آنکھ کبھی نہ سوئے ۔ (مالک (رح) وعبدالرزاق فی مصنفیہ و بیہقی فی سننہ)