21698- عن معاوية بن حيدة قلت: يا رسول الله: "ما نأتي من عوراتنا وما نذر؟ قال: "احفظ عليك عورتك إلا من زوجتك أو ما ملكت يمينك"، قلت: يا رسول الله فإذا كان بعضنا في بعض؟ قال: "إن استطعت أن لا يرى عورتك أحد فافعل" قلت: أرأيت إذا كان أحدنا خاليا؟ قال: "فالله أحق أن يستحي منه من الناس ووضع يده على فرجه". "عب حم د ت حسن ن هـ ك".
21698 ۔۔۔ معاویہ بن حیدہ (رض) کی روایت ہے کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! اعضاء ستر کا کیا حکم ہے ارشاد فرمایا بجز اپنی بیوی یا باندیوں کے اپنے اعضاء ستر کی حفاظت کرو ۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک دوسرے کے متعلق اعضاء ستر کا کیا حکم ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جہاں تک ہو سکے کوشش کرو کہ تمہارے اعضاء ستر کو کوئی نہ دیکھ سکے میں نے عرض کیا کہ مجھے بتلائیں اگر کوئی تنہائی میں ہو اس وقت کیا حکم ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : لوگوں کی بنسبت اللہ تعالیٰ اس کا زیادہ حقدار ہے کہ اس سے حیاء کی جائے ۔ (عبدالرزاق احمد بن حنبل ، ابو داؤد ، ترمذی ، وقال حسن صحیح ، نسائی ، ابن ماجہ ، والحاکم فی المستدرک) ۔