21802- عن جبير بن نفير أن عمر بن الخطاب كتب إلى عمير بن سعد: إنه من قبلك عن الركعتين بعد العصر، فقال أبو الدرداء: "أما أنا فما كنت لأدعهما". "ابن جرير".
21804 ۔۔۔ ابو اسود عبداللہ بن قیس کی روایت ہے کہ عطیۃ بن نماز نے انھیں حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) کے ہاں بھیجا تاکہ ان سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صوم وصال کے متعلق سوال کریں ۔ چنانچہ حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) نے فرمایا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک دن اور ایک رات روزہ رکھتے تھے حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے روزہ کے بارے میں پوچھا : فرمایا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) شعبان کو رمضان کے ساتھ ملا لیتے تھے انھوں نے عصر کے بعد کی دو رکعتوں کے بارے میں حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) عنہاـ سے دریافت کیا تو انھوں نے ان سے منع کیا ۔ (رواہ ابن عساکر)