22086- عن عبد الله بن أبي أوفى قال: "كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فجاء رجل حتى دخل في الصف فقال: الله أكبر كبيرا والحمد لله كثيرا وسبحان الله بكرة وأصيلا، فاستنكر القوم رفع صوته، فقالوا: من هذا العالي الصوت؟ فلما قضى رسول الله صلى الله عليه وسلم صلاته قال: " أيكم العالي الصوت" فقال الرجل: أنا، فقال: "لقد رأيت كلامك يصعد إلى السماء حتى فتح
بابا منها فدخل فيه". "ص"
چنانچہ صحابہ کرام (رض) نے اس کی بلند آوازی کو ناپسند کیا اور کہنے لگے یہ بلند آواز والا کون ہے ؟ جب رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز مکمل کی تو فرمایا کس نے بلند آواز سے کلمات پڑھے تھے ؟ اس آدمی نے جواب دیا میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ! میں نے تیرے کلام کو آسمان کی طرف چڑھتے ہوئے دیکھا ہے حتی کہ ایک دروازہ کھلا تو یہ کلام اس میں داخل ہوگیا ۔ (سعید بن منصور) بیثمی نے ( مجمع الزوائد 02 ا ج 2) میں لکھا ہے کہ یہ حدیث احمد اور طبرانی نے کبیر میں روایت کی ہے اور اس کے رجال ثقہ راوی ہیں