22087- "مسند عبد الله بن عمر" أتى رجل والناس في الصلاة فقال حين وصل إلى الصف: "الله أكبر كبيرا، والحمد لله كثيرا، وسبحان الله بكرة وأصيلا فلما قضى النبي صلى الله عليه وسلم الصلاة قال: "من صاحب الكلمات؟ " قال الرجل: أنا يا رسول الله، والله ما أردت بهن إلا الخير، قال "لقد رأيت أبواب السماء تفتح لهن". "عب وفيه رجل لم يسم".
22087 ۔۔۔ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی روایت ہے کہ ایک آدمی آیا اور لوگ نماز میں کھڑے تھے چنانچہ وہ جب صف کے قریب پہنچا تو اس نے کہا : (اللہ اکبر کبیرا والحمدللہ کثیرا و سبحان اللہ بکرۃ واصیلا) جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز سے فارغ ہوئے تو ارشاد فرمایا : کلمات کس نے کہے ہیں وہ آدمی بولا : یا رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں نے کہے ہیں۔ بخدا میں نے ان سے محض بھلائی کا ارادہ کیا ہے ارشاد فرمایا بخدا ! میں نے آسمان کے دروازوں کو ان کلمات کے لیے کھلتے ہوئے دیکھا ہے (رواہ عبدالرزاق) کلام :۔۔۔ اس حدیث کی سند میں ایک ایسا راوی ہے جس کا نام نہیں لیا گیا ۔ گویا مجہول راوی ہے۔