22285- عن عمران بن حصين قال: "سلم رسول الله صلى الله عليه وسلم في ثلاث ركعات من العصر، فدخل فقام إليه رجل يقال له الخرباق، وكان طويل اليدين،" فقال: "أقصرت الصلاة يا رسول الله؟ فخرج مغضبا يجر رداءه حتى انتهى إلى الناس" فقال: "أصدق هذا؟ " فقالوا: نعم، فقام فصلى تلك الركعة، ثم سلم ثم سجد سجدتين، ثم سلم". "ش طب".
22285 ۔۔۔ حضرت عمران بن حصین (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عصر کی تین رکعتوں پر سلام پھیر دیا ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اٹھ کر چل دیئے اتنے میں ایک آدمی اٹھا جسے خرباق (رض) کہا جاتا تھا اور اس کے ہاتھ قدرے لمبے تھے ۔ اس نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! کیا نماز میں کمی کردی گئی ہے ؟ چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غصہ کی حالت میں اپنی چادر کھینچتے ہوئے نکلے حتی کہ لوگوں تک پہنچے اور فرمایا : کیا یہ آدمی سچ کہتا ہے ؟ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے عرض کیا : جی ہاں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے ہوئے اور ایک رکعت جو باقی رہتی تھی ادا کی پھر سلام پھیر کر دو سجدے کیے اور پھر سلام پھیرا (ابن ابی شیبۃ ، و طبرانی)