22289- "مسند أبي هريرة" خرج النبي صلى الله عليه وسلم يوما إلى المسجد فقال: "أين الفتى الدوسي؟ " فقيل: هو ذاك يا رسول الله يوعك في آخر المسجد فأتاني النبي صلى الله عليه وسلم فمسح على رأسي وقال لي معروفا، ثم أقبل على الناس فقال: "إن أنا سهوت في صلاتي فليسبح الرجال، ولتصفق النساء، فصلى النبي صلى الله عليه وسلم ولم يسه في شيء من صلاته ومع النبي صلى الله عليه وسلم صفان ونصف من الرجال وصفان من النساء أو صفان من الرجال وصفان ونصف من النساء". "عب".
22289 ۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) کی روایت ہے کہ ایک دن حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسجد میں تشریف لائے اور فرمایا : دوسی نوجوان کہاں ہے ؟ عرض کیا گیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وہ ہے مسجد کی آخر میں اور بخار میں مبتلا ہے پس حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے پاس تشریف لائے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور مجھ سے اچھی اچھی باتیں کیں اور پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا : اگر میں نماز میں بھول جاؤں تو مردوں کو تسبیح کرنی چاہیے اور عورتوں کو تصفیق (تالی بجانا) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز پڑھائی اور بھولے نہیں اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ اڑھائی صفیں مردوں کی اور دو صفیں عورتوں کی تھیں یا مردوں کی دو صفیں اور عورتوں کی کی اڑھائی صفیں تھیں ۔ (رواہ عبدالرزاق)