22291- عن ابن شهاب عن أبي بكر بن سليمان بن أبي حثمة وأبي سلمة عبد الله عمن يقنعان بحديثه ان النبي صلى الله عليه وسلم صلى ركعتين في صلاة العصر او صلاة الظهر، ثم سلم فقال له ذو الشمالين ابن عبد عمرو: "يا نبي الله أقصرت الصلاة أم نسيت؟ " فقال النبي صلى الله عليه وسلم: "لم تقصر ولم أنس،" فقال له ذو الشمالين: "بلى يا نبي الله قد كان بعض ذلك"، فالتفت النبي صلى الله عليه وسلم إلى الناس فقال: "أصدق ذو اليدين؟ " قالوا: "نعم يا نبي الله فأقام" الصلاة حين استيقن رسول الله صلى الله عليه وسلم. "عب".
22291 ۔۔۔ ابن شہاب ، ابوبکر بن سلیمان بن ابی حثمہ اور ابو سلمہ عبداللہ سے روایت نقل کرتے ہیں ایک مرتبہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عصر یا ظہر کی دو رکعتیں پڑھ کر سلام پھیر دیا اس پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عمرو کے بیٹے ذوالشمالین نے عرض کیا : یا نبی اللہ ! کیا نماز میں کمی کردی گئی ہے یا پھر آپ بھول چکے ہیں ؟ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہ نماز میں کمی ہوئی ہے اور نہ ہی میں بھولا ہوں ذوالشمالین (رض) نے عرض کیا : یا نبی اللہ کیوں نہیں : کچھ تو ہوا ہے۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں سے پوچھا : کیا ذوالیدین نے سچ کہا ہے ؟ لوگوں نے عرض کیا : جی ہاں ۔ چنانچہ جب حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یقین ہوگیا تو نماز کے لیے کھڑے ہوگئے ۔ (رواہ عبدالرزاق)