22356 عن ابن جريرج قال : أخبرني عطاء أن أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم كانوا يسلمون والنبي صلى الله عليه وسلم حي ، السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته ، فلما مات قالوا : السلام على النبي ورحمة الله وبركاته قال عطاء : وبينا النبي صلى الله عليه وسلم يعلم التشهد ، فقال رجل : وأشهد أن محمدا رسوله وعبده فقال النبي صلى الله عليه وسلم : قد كنت عبدا قبل أن أكون رسولا ، قل وأشهد أن محمدا عبده ورسوله.
(عب).
22356 ۔۔۔ ابن جریج (رح) کہتے ہیں کہ ہمیں عطاء (رح) نے خبر دی ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دنیا میں موجود ہوتے ہوئے یوں سلام بھیجتے تھے ” السلام علیک ایھا النبی و رحمۃ اللہ وبرکاتہ “۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دنیا سے رخصت ہوگئے تو صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین یوں کہنے لگے ” السلام علی النبی و رحمۃ اللہ وبرکاتہ “۔ عطاء کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشہد سکھا رہے تھے ایک آدمی کہنے لگا ” واشھد ان محمدارسولہ وعبدہ “۔ (یعنی اس نے رسول کو عبد پر مقدم کرکے کہا) اس پر حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں رسول ہونے سے پہلے عبد (بندہ) تھا لہٰذا یوں کہا کرو ” واشھد ان محمدا عبدہ ورسولہ “۔ (رواہ عبدالرزاق) فائدہ : ۔۔۔ بعض لوگوں نے تشہد سے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حاضر وناظر ہونے پر استدلال کیا ہے لیکن یہ استدلال بےمعنی اور لغو ہے چونکہ حدیث بالا اور ماقبل کی تمام روایات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زندگی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رحلت کے بعد صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین یوں ہی تشہد پڑھتے رہے ہیں فی الواقع تشہد کے کلمات آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دوران معراج عرش معلی پر اللہ رب العزت نے تحفہ وہدیہ پیش کیے تھے پھر یہی کلمات تشہد میں پڑھنے کا حکم ہوا لہٰذا اب جو کہا جاتا ہے کہ ’ السلام علیک ایھا النبی و رحمۃ اللہ وبرکاتہ “۔ یعنی صیغہ خطاب کے ساتھ یہ حکایۃ کہا جاتا ہے یا یہ مقام مشاہدہ ہے یہاں غیبوبت کو خطاب کے بمنزلہ اتار کر اس پر حکم لگایا جاتا ہے ، اس کا حاضر وناظر سے دور کا تعلق بھی نہیں ۔