22383- عن أوس بن أوس الثقفي قال: "قدمنا على النبي صلى الله عليه وسلم في وفد ثقيف فأقمنا عنده نصف شهر فرأيته يصلي ويسلم عن يمينه وعن شماله. "ط والطحاوي طب".
22383 ۔۔۔ اوس بن اوس ثقفی کی روایت ہے کہ ہم قبیلہ بنو ثقیف کے وفد میں حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور ہم نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس نصف مہینہ قیام کیا میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بخوبی نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دائیں جانب اور بائیں جانب سلام پھیرتے تھے ۔ (ابوداؤد ، طیالسی ، طحاوی و طبرانی) فائدہ :۔۔۔ اس باب میں دو طرح کی احادیث روایت گئی ہیں چنانچہ بعض احادیث سے معلوم ہوتا کہ نماز میں صرف ایک ہی موتبہ سلام پھیرنا ہے اور اسی کو امام مالک (رح) نے اختیار کیا ہے جب کہ دوسری بہت سی احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز میں دو یعنی دائیں اور بائیں سلام پھیرنے ہیں اسی مذہب کو امام ابوحنیفہ (رح) ، شافعی (رح) اور احمد بن حنبل (رح) نے اختیار کیا ہے چنانچہ دونوں جانب ، دو مرتبہ سلام پھیرنے کا عمل ہی آخری اور متفق علیہ اور مجمع علیہ ہے رہیں وہ احادیث جن سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز میں صرف ایک ہی سلام ہے اس کی تاویل علماء نے یوں کی ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک سلام بلند آواز سے پھیرتے تھے اور دوسرا سلام آہستہ پھیرتے تھے ۔ (واللہ اعلم)