22482- عن كعب بن مرة قال: "قلت يا رسول الله أي الليل أسمع؟ " قال: "جوف الليل الآخر. ثم الصلاة حتى يطلع الفجر، ثم لا صلاة حتى تطلع الشمس وتكون قيد رمح أو رمحين، ثم الصلاة مقبولة حتى يقوم الظل قيام الرمح ثم لا صلاة حتى تزول الشمس، ثم الصلاة مقبولة حتى تكون الشمس قيد رمح أو رمحين، ثم لا صلاة حتى تغرب الشمس". "عب وابن جرير".
22483 ۔۔۔ ابن سیرین کی روایت ہے کہ حضرت ابو ایوب انصاری (رض) عصر کے بعد دو رکعتیں میں پڑھتے تھے انھیں حضرت زید بن ثابت (رض) نے عصر کے بعد نماز پڑھنے سے منع کیا اس پر حضرت ابو ایوب (رض) نے کہا : اللہ تبارک وتعالیٰ مجھے نماز پڑھنے پر عذاب نہیں دے گا لیکن نماز نہ پڑھنے پر عذاب دے گا زید بن ثابت (رض) نے کہا : بہرحال میں نے آپ کو عصر کے بعد نماز پڑھنے کا حکم بتادیا ہے اور میں جانتا ہوں کہ آپ مجھ سے بہتر ہیں تاہم یہ نماز پڑھنے کی وجہ سے آپ پر کوئی حرج نہیں لیکن مجھے یہ خوف ہے کہ آپ کو لاعلم آدمی بتادیا ہے اور میں جانتا ہوں کہ آپ مجھ سے بہتر ہیں تاہم یہ نماز پڑھنے کی وجہ سے آپ پر کوئی حرج نہیں لیکن مجھے یہ خوف ہے کہ آپ کو لاعلم آدمی دیکھ لے گا اور پھر وہ عصر کے بعد نماز پڑھنا شروع کر دے گا حتی کہ وہ اس گھڑی میں بھی نماز پڑھے گا جس میں نماز پڑھنا حرام ہے (ابن جریر وابن عساکر)