22483- عن ابن سيرين أن أبا أيوب كان يصلي بعد العصر ركعتين فنهاه زيد بن ثابت فقال: "إن الله لا يعذبني على أن أصلي ولكن يعذبني على أن لا أصلي،" فقال: "إني آمرك بهذا وأنا أعلم أنك خير مني وما عليك بأس أن تصلي ركعتين بعد العصر، ولكن أخاف أن يراك من لا يعلم، فيصلي حتى يصلي في الساعة التي حرم فيها الصلاة". "ابن جرير كر".
22484 ۔۔۔ ” مسند صفوان بن معطل سلمی “ حمید بن اسود ، ضحاک بن عثمان ، مقبری کے سلسلہ سند سے حضرت صفوان بن معطل (رض) کی روایت ہے کہ میں نے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا : یا نبی اللہ ! میں آپ سے ایک ایسی چیز کے متعلق پوچھتا ہوں جیسے آپ بخوبی جانتے ہیں حالانکہ میں اسے نہیں جانتا کیا دن اور رات میں کوئی ایسی گھڑی بھی ہے جس میں نماز پڑھنا مکروہ ہو ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا جب تم صبح کی نماز پڑھ لو تو اس کے بعد نماز سے رک جاؤ حتی کہ آفتاب طلوع ہوجائے جب سورج طلوع ہوچکے تو پھر نماز پڑ سکتے ہو حتی کہ سورج تمہارے سر پر نیزے کی طرح ہوجائے چنانچہ جب سورج تمہارے پر آجائے تو اس وقت نماز سے رک جاؤ چونکہ اس وقت میں دوزخ کو دہکایا جاتا ہے اور اس نے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور جب سورج ڈھل چکے (یعنی زوال کا وقت گزر جائے) تو عصر تک نماز پڑھ سکتے ہو۔ (عبداللہ بن احمد بن حنبل وابو یعلی وابن عساکر)