22512- "أيضا" عن أبي صالح الغفري أن عليا مر ببابل وهو يسير فجاءه المؤذن يؤذنه بصلاة العصر، فلما برز منها، أمر المؤذن فأقام الصلاة، فلما فرغ قال: "إن حبي رسول الله صلى الله عليه وسلم نهاني أن أصلي في المقبرة، ونهاني أن أصلي بأرض بابل فإنها ملعونة". "د ق".
22512 ۔۔۔ ابو صالح غفاری کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) کا بابل (شہر) سے گزر ہوا آپ (رض) کے پاس موذن آیا اور عصر کی نماز کے لیے اجازت چاہی ، آپ (رض) خاموش رہے اور جب بابل سے گزر گئے تو موذن کو حکم دیا اور نماز کھڑی کی ، جب آپ (رض) نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا : میرے محبوب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے قبرستان میں نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے اور مجھے سرزمین بابل میں نماز پڑھنے سے بھی منع فرمایا ہے چونکہ بابل کی سرزمین پر اللہ تعالیٰ کی لعنت نازل ہوئی ہے۔ (ابو داؤد والبیہقی)