22639- عن ابن أبي مليكة أن عمر بن الخطاب قدم مكة فسمع صوت أبي محذورة فقال: "ويحه ما أشد صوته اما يخاف أن تنشق مريطاؤه" فقال: "إنما شددت صوتي لقدومك يا أمير المؤمنين، إنك في بلدة حارة فأبرد على الناس ثم أبرد مرتين أو ثلاثا، ثم انزل فاركع ركعتين ثم ثوب". "ق".
22639 ۔۔۔ ابن ابی ملیکہ کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) تشریف لائے آپ (رض) نے ابو محذورہ (رض) کو بآواز بلند اذان دیتے سنا تو آپ (رض) نے فرمایا : اس کی ہلاکت (کلمہ تعجب) کیا اسے خوف نہیں کہ اس کا پیٹ پھٹ جائے گا حضرت ابو محذورہ (رض) نے عرض کیا : یا امیر المؤمنین ! میں نے تو آپ کی آمد کی وجہ سے آواز بلند کی ہے فرمایا : تم گرمی والی سر زمین میں ہو لہٰذا نماز کو ٹھنڈا کرو اور پھر ٹھنڈا کرو آپ (رض) نے دو یا تین بار فرمایا پھر دو رکعتیں پڑھو ، اور پھر اقامت کہہ کر نماز کھڑی کر دو ۔ (رواہ البیہقی)