22745- عن وارد بن أبي عاصم أنه لقي ابن عمر بمنى فسأله عن الصلاة في السفر، فقال: "ركعتين فقال: كيف ترى ونحن ها هنا بمنى فأخذته عند ذلك ضجرة فقال: ويحك هل سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ قلت: نعم، وآمنت به،" قال: "فإن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان إذا خرج صلى ركعتين، فصل إن شئت أو دع". "ابن جرير".
22745 ۔۔۔ وارد بن ابی عاصم کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میری حضرت عبداللہ ابن عمرو (رض) سے منی میں ملاقات ہوئی میں نے ان سے سفری نماز کے متعلق دریافت کیا آپ (رض) نے فرمایا : سفر میں (چار رکعت والی نماز) دو رکعت پڑھی جائے گی ، میں نے کہا : آپ کا کیا خیال ہے جب کہ ہم یہاں منی میں ہیں ؟ اس پر آپ (رض) نے مجھے ڈانٹتے ہوئے فرمایا : تیری ہلاکت ! کیا تو نے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نہیں سن رکھا ؟ میں نے کہا : جی ہاں سن رکھا ہے اور میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان بھی لایا ہوں ۔ حضرت عبداللہ ابن عمرو (رض) نے فرمایا : بلاشبہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب سفر پر نکلتے تو دو رکعتیں پڑھتے تھے لہٰذا تم بھی اگر چاہو تو دو رکعتیں پڑھو یا چھوڑو ۔ (رواہ ابن جریر)