22746- عن سماك الحنفي قال: "سألت ابن عمر عن صلاة السفر، فقال: ركعتان تمام غير قصر، إنما القصر صلاة المخافة، قلت: وما صلاة المخافة؟ " قال: "يصلي الإمام بطائفة ركعة، ثم يجيء إلى مكان هؤلاء ويجيء هؤلاء إلى مكان هؤلاء، فيصلي بهم ركعة فيكون للإمام ركعتين، ولكل طائفة ركعة ركعة". "ابن جرير".
22746 ۔۔۔ سماک حنفی (رح) کی روایت ہے کہ میں نے حضرت عبداللہ ابن عمرو (رض) سے صلوۃ سفر کے متعلق دریافت کیا : آپ (رض) نے فرمایا سفر میں دو رکعت نماز پڑھی جائے گی جو کہ پوری نماز ہے قصر نہیں بلاشبہ قصر تو صلوۃ خوف میں ہوتی ہے میں نے عرض کیا : صلوۃ خوف کیا ہے ؟ آپ (رض) نے فرمایا وہ یہ کہ امام مقتدیوں کی دو جماعتیں بنا لے ایک جماعت خوف کے سامنے سینہ سپر رہے اور دوسری جماعت کو امام ایک رکعت پڑھائے پھر یہ جماعت مقام خوف پر چلی جائے اور وہاں کی جماعت آئے اور امام کے پیچھے ایک رکعت پڑھ لے یوں اس طرح امام کی دو رکعتیں ہوجائیں گی اور ہر جماعت کی ایک ایک رکعت ہوجائے گی ۔ (رواہ ابن جریر)