22952- أنبأنا القاضي أبو عمر محمد بن الحسين بن محمد بن الهيثم أنبأنا أبو الحسن عبد الواحد بن الحسن بجند يسابور حدثنا الحسن بن بيان العسكري حدثنا عبد الله بن حماد حدثنا سليمان بن سلمة عن محمد بن إسحاق الأندلسي حدثنا مالك بن أنس عن يحيى بن سعيد الأنصاري عن سعيد ابن المسيب عن النواس بن سمعان قال: "صليت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم صلاة الظهر، وكان عن يميني رجل من الأنصار، فقرأ خلف النبي صلى الله عليه وسلم، وعلى يساري رجل من مزينة يلعب بالحصى، فلما قضى صلاته فقال: من قرأ خلفي؟ فقال الأنصاري: انا يا رسول الله،" قال: فلا تفعل، من كان له إمام فإن قراءة الإمام له قراءة،" وقال للذي يلعب بالحصى: "هذا حظك". "قال ق: "هذا إسناد باطل، وفيه: من لا يعرف، ومحمد بن إسحاق هذا إن كان العكاشي فهو كذاب يضع الحديث على الأوزاعي وغيره من الأئمة".
22952 ۔۔۔ قاضی ابو عمر محمد بن حسین بن محمد بن ھثیم ابو حسن عبدالواحد بن حسن (جدیساپور میں) حسن بن بیان عسکری عبداللہ بن حماد سلیمان بن سلمہ محمد بن اسحاق اندلسی مالک بن انس یحییٰ بن سعید انصاری ، سعید بن مسیب (رح) کے سلسلہ سند سے مروی ہے کہ نواس بن سمعان (رض) کہتے ہیں : ایک مرتبہ میں نے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ظہر کی نماز پڑھی چنانچہ میری دائیں طرف انصار کا ایک آدمی تھا اس نے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے قرات شروع کردی جب کہ میری بائیں طرف قبیلہ مزینہ کا ایک آدمی تھا وہ کنکریوں کے ساتھ کھیل رہا تھا ، جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز مکمل کی تو فرمایا : میرے پیچھے کس نے قرات کی ہے ؟ انصاری بولا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ایسا مت کرو اور جو آدمی کنکریوں کے ساتھ کھیل رہا تھا اس سے کہا : یہ تیرا حصہ ہے۔ (رواہ البیہقی) کلام : ۔۔۔ بیہقی (رح) کہتے ہیں اس حدیث کی مذکورہ سند باطل ہے چونکہ اس میں غیر معروف راوی بھی ہیں چنانچہ محمد بن اسحاق اگر عکاشی ہے تو وہ جھوٹا کذاب ہے اور وہ اپنی طرف سے حدیث گھڑ کر امام اوزاعی اور دیگر ائمہ حدیث کی طرف منسوب کردیتا تھا ۔