hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 23142

.

كنز العمال

23142
Kanz al-Ummal
23142- (أيضا) كان رسول الله صلى الله عليه وسلم قد همه الأذان حتى هم أن يأمر رجالا فيقومون على الآطام فيرفعون ويشيرون إلى الناس بالصلاة حتى رأيت فيما يرى النائم كأن رجلا عليه ثوبان أخضران على سور المسجد يقول: الله أكبر الله أكبر، أربعا، أشهد أن لا إله إلا الله، مرتين، أشهد أن محمدا رسول الله، مرتين، حي على الصلاة، مرتين، حي على الفلاح، مرتين، الله أكبر الله أكبر لا إله إلا الله، ثم قام فقال مثلها، وقال في آخرها: "قد قامت الصلاة قد قامت الصلاة، فأخبرت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: اذهب فقصها على بلال ففعلت، فأقبل الناس سراعا ولا يدرون إلا أنه فرغ فأقبل عمر بن الخطاب" وقال: "لولا ما سبقني به لأخبرتك أنه قد طاف بي الذي طاف به". (أبو الشيخ) .
23142 ۔۔۔ حضرت عبداللہ بن زید (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اذان کا اردہ کیا حتی کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کو حکم دینا چاہا کہ ٹیلوں پر کھڑ؁ ہو کر لوگوں کو نماز کی طرف اشارہ کریں ۔ یہاں تک کہ میں نے جواب دیکھا کہ ایک آدمی ہے اس پر سبز رنگ کے دو کپڑے ہیں اور مسجد کی حدود میں کھڑا یہ کلمات کہہ رہا ہے (اللہ اکبر اللہ اکبر چار مرتبہ اشھدان لا الہ الا اللہ دو مرتبہ اشھدان محمدا رسول اللہ دو مرتبہ حی علی الصلوۃ دو مرتبہ حی علی الفلاح دو مرتبہ اللہ اکبر اللہ اکبر لا الہ اللہ ۔ وہ آدمی پھر کھڑا ہو اور پھر یہی کلمات دہرائے اور ان کے آخر میں یہ کلمات کہے ” قدقامت الصلوۃ قد قامت الصلوۃ “ چنانچہ صبح ہوتے ہی میں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہو اور سارا واقعہ کہہ سنا یا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا یہ کلمات بلال سے بیان کرو میں نے ایسا ہی کیا کیا دیکھتے ہیں کہ لوگ دوڑتے ہوئے آرہے ہیں اور انھیں معلوم نہیں کہ یہ کیا معمہ ہے حتی کہ بلال اذان سے فارغ ہوگئے اتنے میں حضرت عمر (رض) تشریف لائے اور فرمایا : اگر عبداللہ بن زید مجھ پر سبقت نہ لے جاتا تو میں آپ کو اس کی خبر دیتا کہ میں نے بھی اسی جیسا دیکھا ہے (رواہ ابو الشیخ )