23143- (أيضا) اهتم رسول الله صلى الله عليه وسلم بالأذان بالصلاة وكان إذا جاء وقت الصلاة صعد برجل فيشير بيده فمن رآه جاء، ومن لم يره لم يعلم بالصلاة، فاهتم لذلك هما شديدا فقال له بعض القوم: يا رسول الله لو أمرت بالناقوس، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: فعل النصارى لا، فقالوا: لو أمرت بالبوق فنفخ فيه، فقال: فعل اليهود لا فرجعت إلى أهلي وأنا مغتم لما رأيت من اهتمام رسول الله صلى الله عليه وسلم في حاله حتى إذا كان الليل قبل الفجر غشيني النعاس فرأيت رجلا عليه ثوبان أخضران وأنا بين النائم واليقظان فقام على سطح المسجد فجعل أصبعيه في أذنيه ونادى. (أبو الشيخ) .
23143 ۔۔۔ ” ایضا “ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چاہا کہ کسی طرح سے نماز کا اعلان کیا جائے چنانچہ جب نماز کا وقت ہوجاتا تو کوئی آدمی کسی ٹیلے پر چڑھ جاتا اور ہاتھ سے اشارہ کرتا جا دیکھ لیتا نماز کے لیے حاضر ہوجاتا اور جو نہ دیکھتا اسے نماز کا علم ہی نہ ہوتا ۔ چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز کے لیے اعلان کی شدت سے ضرورت محسوس کی حتی کہ بعض لوگوں نے کہا : حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اگر آپ ناقوس بجانے کا حکم دے دیں ۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا یہ نصرانیوں کا فعل ہے۔ صحابہ کرام (رض) نے عرض کیا اگر آپ نر سنگھے کا حکم دیں تاکہ اس میں پھونک مار کر نماز کا اعلان کیا جائے فرمایا یہ یہودیوں کی نقل ہے چنانچہ میں اپنے گھر واپس لوٹ آیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے درد کو شدت سے محسوس کررہا تھا اور سخت غمزدہ تھا حتی کہ رات جاگتے جاگتے گزاری اور فجر سے تھوڑی دیر قبل میری آنکھ لگ گئی ۔ میں (خواب میں ) دیکھتا ہوں کہ ایک آدمی ہے اس پر دو سبز رنگ کے کپڑے ہیں درآنحالیکہ میں نیندوبیداری کی درمیانی حالت میں ہوں چنانچہ وہ آدمی مسجد کی چھت پر کھڑا ہوا اس نے اپنی انگلیاں کانوں میں ٹھونس لیں اور پھر صدا بلند کی (رواہ ابو الشیخ )