23147- عن ابن أبي ليلى قال: "حدثنا أصحابنا أن رجلا من الأنصار جاء فقال: يا رسول الله إني لما رجعت البارحة ورأيت من اهتمامك رأيت كأن رجلا قائما على المسجد عليه ثوبان أخضران فأذن، ثم قعد قعدة، ثم قام فقال: مثلها غير أنه" قال: "قد قامت الصلاة ولولا أن تقولوا لقلت: إني كنت يقظانا غير نائم، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: لقد أراك الله خيرا فقال عمر: أما إني رأيت مثل الذي رأى غير أني لما سبقت استحييت فقال النبي صلى الله عليه وسلم: مروا بلالا فليؤذن". (ش) .
23147 ۔۔۔ ابن ابی یعلی روایت نقل کرتے ہیں کہ ہمیں ہمارے ساتھیوں نے حدیث سنائی ہے کہ ایک انصاری حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کرنے لگا : حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رات کو جب میں گھر واپس لوٹا تو میں بھی آپ کے غم میں غمزدہ تھا میں نے خواب دیکھا کہ ایک آدمی مسجد پر کھڑا ہے اور اس پر سبز رنگ کے دو کپڑے ہیں چنانچہ اس نے اذان دی اور پھر تھوڑی دیر کے لیے بیٹھ گیا پڑھ کھڑا ہو اور پہلے کی طرح کلمات دھرائے صرف اس کلمہ کا اس نے اضافہ کیا ” قد قامت الصلوۃ “ اگر تم لوگ میرا مذاق نہ اڑاؤ تو میں کہہ سکتا ہوں کہ میں نیند اور بیداری کی درمیانی حالت میں تھا ۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ تبارک وتعالیٰ نے تمہیں خیر ہی خیر دکھائی ہے۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : میں نے بھی اسی جیسا خواب دیکھا ہے الایہ کہ انصاری مجھ پر سبقت لے گیا پھر مجھے حیاء آنے لگی حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ بلال کو حکم دو تاکہ اذان دے ۔ مرواہ ابن ابی شیبہ )