23148- (مسند عبد الله بن عمر) كان المسلمون حين قدموا المدينة يجتمعون فيتحينون الصلاة ليس ينادي بها أحد، فتكلموا يوما في ذلك فقال بعضهم: اتخذوا ناقوسا مثل ناقوس النصارى، وقال بعضهم: "بل بوقا مثل بوق اليهود فقال عمر: أولا تبعثون رجلا ينادي بالصلاة؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يا بلال قم فأذن بالصلاة". (عب وأبو الشيخ في الأذان) .
23148 ۔۔۔” مسند عبداللہ بن عمر (رض) “ مسلمان جب ہجرت کر کے مدینہ آئے تو اکٹھے ہوجاتے اور نماز کا انتظار کرتے رہے اور کوئی بھی نماز کے لیے صدا بلند نہیں کرتا تھا ۔ چنانچہ ایک دن سب نے اس مسئلہ پر گفٹ و شنید کی بعض نے کہا نصرانیوں کی طرح ناقوس بجانا چاہے بعض نے کہا یہودیوں کی طرح نرسنگھا بجانا چاہے حضرت عمر (رض) نے کہا : کیا تم کسی آدمی کو نہیں بھیجتے جو نماز کے لیے صدا بلند کرے اس پر حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے بلال کھڑے ہوجاؤ اور نماز کے لیے اذان دو (رواہ عبدالرزاق وابو الشیخ )