hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 23165

.

كنز العمال

23165
Kanz al-Ummal
23165- قال: وقال عمر بن الخطاب: "لو كنت مؤذنا لكمل أمري، وما باليت أن لا أنتصب لقيام ليل ولا لصيام نهار، وسمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: اللهم اغفر للمؤذنين فقلت: تركتنا يا رسول الله صلى الله عليه وسلم ونحن نجتلد على الأذان بالسيوف؟ " قال: "كلا يا عمر إنه سيأتي على الناس زمان يتركون الأذان على ضعفائهم تلك لحوم حرمها الله على النار لحوم المؤذنين، وقالت عائشة: ولهم هذه الآية: {وَمَنْ أَحْسَنُ قَوْلاً مِمَّنْ دَعَا إِلَى اللَّهِ وَعَمِلَ صَالِحاً وَقَالَ إِنَّنِي مِنَ الْمُسْلِمِينَ} قالت: هو المؤذن إذا قال حي على الصلاة فقد دعا إلى الله، فإذا صلى فقد عمل صالحا،" وإذا قال: "أشهد أن لا إله إلا الله فهو من المسلمين". مر برقم [23158] .
23165 ۔۔۔ ابو الشیخ روایت نقل کرتے ہیں کہ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) فرماتے ہیں : اگر میں موذن ہوتا تو میرا معاملہ مکمل ہوچکا ہوتا اور مجھے رات کے قیام اور دن کے روزہ رکھنے کی پروا نہ ہوتی چونکہ میں نے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے سنا ہے کہ یا اللہ : مؤذنین کی بخشش فرما دے میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! آپ نے اپنی دعا میں ہمیں چھوڑ دیا پھر تو ہم اذان پر تلواروں سے لڑیں گے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اے عمر ! ہرگز ایسا نہیں ہوگا عنقریب لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آنے والا ہے کہ وہ اذان کی ذمہ داری اپنے کمزوروں (نچلے درجہ کے لوگوں) کو سونپ دیں گے حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) فرماتی ہیں کہ مؤذنین کی شان میں یہ آیت ہے : (آیت) ” ومن احسن قولا ممن دعا الی اللہ وعمل صالحا وقال اننی من المسلمین “۔ یعنی اس آدمی سے زیادہ اچھی بات کس کی ہوگی جو اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتا ہو اور نیک عمل کرتا ہو اور کہتا ہو کہ میں مسلمان ہوں حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) کہتی ہیں : وہ موذن ہی ہوسکتا ہے۔ چنانچہ موذن جب ” حی علی الصلوۃ “ کہتا ہے تو وہ اللہ تبارک وتعالیٰ کی طرف بلا رہا ہوتا ہے۔ اور جب نماز پڑھ لیتا ہے تو اس نے نیک عمل کرلیا اور جب ” اشھد ان الا الہ الا اللہ “ کہتا ہے تو گویا وہ اپنے مسلمان ہونے کا اقرار کرتا ہے۔ میہ حدیث 23158 پر گذر چکی ہے)