hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 23251

.

كنز العمال

23251
Kanz al-Ummal
23251- عن ابن جريج قال: "أخبرني حسن بن مسلم أن رجلا سأل طاوسا متى قيل: الصلاة خير من النوم؟ فقال: أما إنها لم تقل على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم ولكن بلالا سمعها في زمان أبي بكر بعد وفاة رسول الله صلى الله عليه وسلم يقولها رجل غير مؤذن فأخذها منه، فأذن بها فلم يمكث أبو بكر إلا قليلا حتى إذا كان عمر" قال: "لو نهينا بلالا عن هذا الذي أحدث وكأنه نسيه وأذن به الناس حتى اليوم". (عب) .
23251 ۔۔۔ ابن جریج ، حسن بن مسلم سے روایت نقل کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے طاوس (رح) سے پوچھا کہ ” الصلوۃ خیر من النوم “ کب سے فجر کی اذان میں کہا جانے لگا ہے ؟ انھوں نے جواب دیا کہ یہ کلمہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے میں نہیں کہا جاتا تھا ۔ لیکن بلال (رض) نے یہ کلمہ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) کے زمانہ میں حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کے بعد کسی آدمی کے منہ سے سن لیا تھا اور وہ آدمی موذن بھی نہیں تھا بلال (رض) نے اس سے سن کر اختیار کرلیا ، اور اذان میں اس کلمہ کو کہتے رہے چنانچہ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) کو تھوڑا ہی عرصہ ملا تھا حتی کہ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) کا زمانہ آگیا اور انھوں نے کہا : اگر ہم بلال کو اس نئی بات سے منع کرلیں تو اچھا ہوگا گویا کہ آپ (رض) بھول گئے اور آج تک لوگ اس کلمے کو اذان میں شامل کیے ہوئے ہیں۔ (رواہ عبدالرزاق)