23306- عن ابن أبي سليط أن عثمان بن عفان صلى الجمعة بالمدينة، وصلى العصر بملل. (مالك)
23306 ۔۔۔ ابن ازھر کے آزاد کردہ غلام ابو عبید کہتے ہیں ایک مرتبہ میں عید کے موقع پر حضرت عمر (رض) کے ساتھ تھا چنانچہ آپ (رض) تشریف لائے اور نماز پڑھی نماز سے فارغ ہو کر لوگوں سے خطاب کیا اور فرمایا : یقیناً حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان دو دنوں میں روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے تمہارے روزوں کے بعد افطار کے دن (عیدالفطر کے دن ) اور اس دن جس میں تم اپنی قربانیوں کا گوشت کھاتے ہو (بقرہ عید کے دن) ابو عبید کہتے ہیں پھر میں حضرت عثمان (رض) کے پاس عید کے موقع پر حاضر ہوا چنانچہ آپ (رض) نے نماز پڑھی اور پھر لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا : بلاشبہ آج دو عیدیں جمع ہوگئی ہیں لہٰذا عوالی کے والوں میں سے جو پسند کرتا ہوں کہ جمعہ کا انتظار کرے اسے چاہیے کہ وہ جمعہ کے انتظار میں بیٹھا رہے اور جو واپس جانا چاہتا ہو میں نے اسے اجازت دے دی وہ واپس چلا جائے ۔ ابو عبید کہتے ہیں پھر میں حضرت علی (رض) کے پاس عید کے موقع پر حاضر ہوا درآنحالیکہ حضرت عثمان (رض) محصور تھے حضرت علی (رض) تشریف لائے اور نماز پڑھی نماز سے فارغ ہو کر لوگوں سے خطاب کیا (رواہ البخاری ومسلم وابو داؤد الترمذی والنسائی وابن ماجہ وابن حزیم وابن جارود وابو عوانۃ والطحاوی وابو یعلی وابن حبان والبیھقی )