23307- عن أبي عبيد مولى ابن الأزهر قال: "شهدت العيد مع عمر بن الخطاب فجاء فصلى، وانصرف فخطب الناس فقال: إن هذين يومان نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن صيامهما يوم فطركم من صيامكم، والآخر يوم تأكلون فيه من نسككم،" قال أبو عبيد: "ثم شهدت العيد مع عثمان فصلى ثم انصرف فخطب الناس فقال: إنه قد اجتمع لكم في يومكم هذا عيدان، فمن أحب من أهل العالية أن ينتظر الجمعة فلينتظرها، ومن أحب أن يرجع فليرجع فقد أذنت له،" قال أبو عبيد: "ثم شهدت العيد مع علي بن أبي طالب وعثمان محصور فجاء فصلى، ثم انصرف فخطب". (خ م، د، ت، ن، هـ وابن خزيمة وابن الجارود وأبو عوانة والطحاوي ع، حب، ق)
23307 ۔۔۔ ابن ازھر کے آزاد کردہ غلام ابو عبید کہتے ہیں ایک مرتبہ میں عید کے موقع پر حضرت عمر (رض) کے ساتھ تھا چنانچہ آپ (رض) تشریف لائے اور نماز پڑھی نماز سے فارغ ہو کر لوگوں سے خطاب کیا اور فرمایا : یقیناً رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان دو دنوں میں روزہ رکھنے سے من فرمایا ہے تمہارے روزوں کے بعد افطار کے دن (عید الفطر کے دن) اور اس دن جس میں تم اپنی قربانیوں کا گوشت کھاتے ہو (بقرہ عید کے دن) ابو عبید کہتے ہیں پھر میں حضرت عثمان (رض) کے پاس عید کے موقع پر حاضر ہوا چنانچہ آپ (رض) نے نماز پڑھی ، اور پھر لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا : بلاشبہ آج دو عیدیں جمع ہوگئی ہیں لہٰذا اعوالی کے والوں میں سے جو پسند کرتا ہوں کہ وہ جمعہ کا انتظار کرے اسے چاہیے کہ وہ جمعہ کے انتظار میں بیٹھا رہے اور جو واپس جانا چاہتا ہو میں نے اسے اجازت دے دی وہ واپس چلا جائے ، ابوعبید کہتے ہیں پھر میں سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) کے پاس عید کے موقع پر حاضر ہوا درآنحالیکہ سیدنا حضرت عثمان ذوالنورین (رض) محصور تھے سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) تشریف لائے اور نماز پڑھی نماز سے فارغ ہو کر لوگوں کو خطاب کیا ۔ (رواہ البخاری ومسلم وابوداؤد والترمذی والنسائی وابن ماجہ وابن حزیم وابن جارود وابوعوانۃ والطحاوی وابو یعلی وابن حبان والبیہقی)