23320- عن عثمان أنه كان يقول في خطبته: قل ما يدع ذلك إذا خطب إذا قام الإمام يخطب يوم الجمعة فاستمعوا وأنصتوا، فإن للمنصت الذي لا يسمع من الحظ مثل ما للمستمع المنصت، فإذا قامت الصلاة فاعدلوا الصفوف وصفوا الأقدام، وحاذوا بالمناكب، فإن اعتدال الصف من تمام الصلاة، ثم لا يكبر حتى يأتيه رجال قد وكلهم بتسوية الصفوف فيخبرونه أنها قد استوت فيكبر. (مالك عب ق) .
23320 ۔۔۔ روایت ہے کہ سیدنا حضرت عثمان ذوالنورین (رض) عموماً جمعہ کے دن خطبہ میں یہ بات کہا کرتے تھے اور بہت کم ایسا ہوا ہے کہ آپ نے یہ بات نہ کہی ہو چنانچہ آپ (رض) فرمایا کرتے تھے جمعہ کے دن امام جب خطبہ کے لیے کھڑا ہوجائے تو خاموش ہو کر خطبہ سنا کرو اور جو آدمی خاموش رہا ہے گو کہ خطبہ نہیں سنتا اس کے لیے ایسا ہی ثواب ہے جیسا کہ خاموشی سے خطبہ سننے والے کے لیے ہوتا ہے جب نماز کھڑی ہوجائے صفوں کو سیدھی کرلیا کرو پہلے اگلی صفوں کو مکمل کرو کاندھوں سے کاندھوں کو ملا کر رکھا کرو بلاشبہ صف کا سیدھا کرنا نماز کا حصہ ہے۔ پھر آپ (رض) اس وقت تک تکبیر نہ کہتے جب تک کہ آپ (رض) کے پاس وہ لوگ نہ آجاتے جنھیں آپ (رض) نے صفیں سیدھی کرنے کی ذمہ داری سونپ رکھی تھی ، چنانچہ جب وہ لوگ آکر آپ (رض) کو بتاتے کہ صفیں سیدھی ہوچکی ہیں پھر آپ (رض) تکبیر کہتے ۔ مرواہ عبدالرزاق ومالک والبیہقی)