23437- عن الأصبغ بن نباتة قال: "أبصر علي بن أبي طالب ناسا صلوا صلاة الضحى حين بزغت الشمس فقال: تخيروا صلاة الأوابين قالوا: وما صلاة الأوابين؟ " قال: "صلاة الأوابين ركعتان، وصلاة المسبحين أربع، وصلاة الخاشعين ست، وصلاة الفتح ثمان ركعات صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم فتح مكة، وصلاة مريم ابنة عمران ثنتا عشرة ركعة، من صلاها في يوم بنى الله له بيتا في الجنة". (أبو القاسم المناديلي في جزئه)
23437 ۔۔۔ اصبغ بن نباتہ کہتے ہیں : ایک مرتبہ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے کچھ لوگوں کو طلوع شمس کے وقت نماز چاشت پڑھتے دیکھا تو آپ (رض) نے فرمایا : نماز اوابین کا انتخاب کرو لوگوں نے پوچھا نماز اوبین کیا ہے فرمایا : نماز اوبین دو رکعت ہے نماز صبحین چار رکعت ہے نماز خاشعین چھ رکعت ہے اور نماز فتح آٹھ رکعات ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نماز فتح مکہ کے موقع پر تھی مریم بنت عمران کی نماز بارہ رکعت ہے جس نے بھی یہ نماز پڑھی اللہ تبارک وتعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھربنائیں گے ۔ (رواہ ابو القاسم المنادیلی فی جرہ )