2348 – "من قرأ ثلث القرآن فقد أعطي النبوة، ومن قرأ نصف القرآن فقد أعطي نصف النبوة، ومن قرأ ثلثيه فقد أعطي ثلثي النبوة، ومن قرأ القرآن كله فقد أعطي النبوة كلها غير أنه لا يوحى إليه، ويقال له يوم القيامة اقرأ وارقه فيقرأ ويصعد بكل آية درجة حتى ينجز ما معه من القرآن ثم يقال له اقبض فيقبض ثم يقال له هل تدري ما في يدك فإذا في يده اليمنى الخلد وفي يده الأخرى النعيم". (ابن الأنباري في المصاحف هب وابن عساكر عن أبي أمامة) وأورده ابن الجوزي في الموضوعات فلم يصب. (الخطيب عن ابن عمر) .
2348 ۔۔ جس نے تہائی قرآن یاد کرلیا اس کو تہائی امر نبوت عطا کردیا گیا اور جس نے نصف قرآن یاد کرلیا اس کو نصف امر نبوت عطا کردیا گیا۔ اور جس نے دو تہائی قرآن یاد کرلیا اس کو دو تہائی امر نبوت عطا کردیا گیا اور جس نے مکمل قرآن یاد کرلیا اس کو مکمل امر نبوت عطا کردیا گیا۔ صرف یہ کہ اس پر وحی نہیں اترتی، اور اس کو کہا جائے گا پڑھتا جا چڑھتا جا۔ پھر وہ ہر آیت پر ایک ایک درجہ بلند ہوتا جائے گا۔ حتی کہ قرآن کا آخری مقام آجائے گا۔ پھر اس کو کہا جائے گا کہ اپنی مٹھی بند کر۔ وہ مٹھی بند کرے گا۔ پھر اس سے پوچھا جائے گا کیا جانتے ہو تمہاری مٹھی میں کیا ہے ؟ دیکھے گا تو ایک ہاتھ میں جنت الخلد کا پروانہ اور دوسری میں جنت النعیم کا پروانہ ہے۔ (ابن الانباری فی المصاحف، شعب الایمان، ابن عساکر بروایت ابی امامۃ (رض) )
علامہ ابن جوزی (رح) نے اس روایت کو من گھڑت روایات میں شمار کیا ہے۔ لیکن یہ بات درست نہیں۔ (الخطیب بروایت ابن عمر (رض)۔