hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 23499

.

كنز العمال

23499
Kanz al-Ummal
23499- عن مجاهد قال: "لم يصل رسول الله صلى الله عليه وسلم صلاة الخوف إلا مرتين مرة بذي الرقاع من أرض بني سليم ومرة بعسفان، والمشركون بضجنان بينهم وبين القبلة فصف النبي صلى الله عليه وسلم أصحابه كلهم خلفه وهم بعسفان، ثم تقدم فصلى فركع بهم جميعا، ثم سجد بالذين يلونه وقام الآخرون خلفه يحرسونه، فلما سجد بهم سجدتين قاموا وسجد أولئك الذين خلفه، ثم تقدموا إلى الصف الأول، وتأخر هؤلاء، ثم ركع بهم جميعا، ثم سجد بالذين يلونه، وقام الآخرون يحرسونهم، فلما رفعوا رؤوسهم من السجدة سجد أولئك، ثم سلم النبي صلى الله عليه وسلم عليهم جميعا وتمت لهم صلاتهم". (عب) .
23499 ۔۔۔ مجاہد روایت کرتے ہیں کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صرف دو مرتبہ صلوۃ خوف پڑھی ہے ایک مرتبہ مقام ذی الرقاع سرزمین بنو سلم میں دوسری مرتبہ مقام عسفان میں (چنانچہ اس دوسری مرتبہ میں نماز خوف کا طریقہ ہے کہ) مشرکین مقام ضجنان میں مسلمانوں اور قبلہ کے درمیان تھے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے سارے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کو اپنے پیچھے صف میں کھڑا کیا ۔ یہ واقعہ عسفان کا ہے پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آگے بڑھے اور سب کو ایک رکوع کرایا اور جو آپ کے قریب تھے انھیں اپنے ساتھ سجدہ کروایا جب کہ دوسرے پیچھے کھڑے ان کی نگرانی کرتے رہے جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے ساتھ سجدہ کیا تو یہ لوگ کھڑے ہوگئے اور دوسروں نے جو پیچھے کھڑے رہے تھے انھوں نے سجدہ کیا اور پھر آگے بڑھ کر پہلی صف میں آگئے اور پہلی صف والے پیچھے ہوگئے اور پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ سب نے رکوع کیا اور جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قریب کھڑے تھے انھوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ سجدہ کیا جب کہ دوسرے پیچھے کھڑے نگرانی کرتے رہے جب ان لوگوں نے سجدہ سے سر اٹھائے تو پیچھے کھڑے رہے لوگوں نے سجدہ کیا پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ سب نے سلام پھیرا اور یوں سب کی نماز مکمل ہوگئی ۔ (رواہ عبدالرزاق)