23498- عن طاوس قال: "صلى النبي صلى الله عليه وسلم صلاة الظهر أربع ركعات وهو والعدو في صحراء واحدة، فقال العدو: إن لهم صلاة أخرى هي أحب إليهم من الدنيا وما فيها، فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي العصر فقاموا خلفه صفين فركع النبي صلى الله عليه وسلم فركع الصف الأول والصف الآخر قيام، ثم قاموا، ثم ارتد الصف الأول القهقرى، ثم قاموا إلى مقام الصف الآخر، حتى قاموا مقامهم في مقامهم، ثم ركع النبي صلى الله عليه وسلم فركع الصف الأول فكان للنبي صلى الله عليه وسلم ركعتان ولكل صف ركعة، ثم صلوا على مصافهم ركعة ركعة". (عب) .
23498 ۔۔۔ طاؤوس کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ظہر کی چار رکعات پڑھیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (جمعہ مجاہدین کے) اور دشمن ایک ہی میدان میں تھے دشمن کہنے لگے : مسلمانوں کی دوسری نماز کا وقت ہونا چاہتا ہے انھیں نماز دنیا ومافیھا سے بھی زیادہ محبوب ہے چنانچہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز عصر کے لیے کھڑے ہوئے اور لوگوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے دو صفیں بنالیں جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رکوع کیا تو پہلی صف نے بھی رکوع کیا جب کہ دوسری صف والے کھڑے رہے پھر یہ پہلی صف والے سجدہ سے کھڑے ہوئے اور الٹے پاؤں پیچھے ہٹ گئے اور دوسری صف کی جگہ کھڑے ہوگئے ، اور دوسری صف والے ان کی جگہ آکھڑے ہوئے پھر حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رکوع کیا اور پہلی صف نے بھی رکوع کیا، یوں حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دو رکعتیں ہوگئیں اور ہر ایک صف کی ایک ایک رکعت ہوگئی پھر انھوں نے اپنی اپنی صف میں ایک ایک رکعت پڑھی ۔ (رواہ عبدالرزاق)