23501- عن علي قال: "سأل قوم من التجار رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالوا: يا رسول الله إنا نضرب في الأرض فكيف نصلي؟ فأنزل الله تعالى: {وَإِذَا ضَرَبْتُمْ فِي الْأَرْضِ فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلاةِ} ثم انقطع الوحي، فلما كان بعد ذلك بحول غزا النبي صلى الله عليه وسلم فصلى الظهر فقال المشركون: لقد أمكنكم محمد - صلى الله عليه وسلم - وأصحابه من ظهورهم هلا شددتم عليهم؟ فقال قائل منهم: إن لها أخرى مثلها في إثرها، فأنزل الله تعالى بين الصلاتين: {إِنْ خِفْتُمْ أَنْ يَفْتِنَكُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا إِنَّ الْكَافِرِينَ كَانُوا لَكُمْ عَدُوّاً مُبِيناً وَإِذَا كُنْتَ فِيهِمْ فَأَقَمْتَ لَهُمُ الصَّلاةَ - إلى قوله - إِنَّ اللَّهَ أَعَدَّ لِلْكَافِرِينَ عَذَاباً مُهِيناً} فنزلت صلاة الخوف". (ابن جرير) .
23501 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) کی روایت ہے کہ کچھ تاجروں نے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا کی ہم لوگ محو سفر رہتے ہیں ہم کیسے نماز پڑھیں ، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ۔ مآیت)” واذا ضربتم فی الارض فلیس علیکم جناح ان تقصروا من الصلاۃ “۔ یعنی جب تم زمین میں محو سفر ہو تو تم پر کوئی حرج نہیں کہ تم نماز میں قصر کرو۔ پھر کچھ عرصہ کے لیے وحی کا سلسلہ بند ہوگیا ۔ پھر جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک سال بعد غزوہ پر تشریف لے گئے تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ظہر کی نماز پڑھی مشرکین آپس میں کہنے لگے : محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور اس کے ساتھیوں نے تمہیں اپنی پشتوں پر غلبہ دے دیا ہے تم ان پر چڑھائی کیوں نہیں کردیتے ؟ ان میں سے کسی نے کہا : اس کے بعد ان کی ایک اور نماز بھی آرہی ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں نمازوں (ظہر اور عصر) کے درمیانی وقت میں یہ آیات نازل فرمائیں : (آیت)” ان خفتم ان یفتنکم الذین کفروا ان الکافرین کانوا لکم عدوا مبینا واذا کنت فیھم فاقمت لھم الصلوۃ الی قولہ ان اللہ اعد للکافرین عذابا مھینا “۔ یعنی اگر تمہیں خوف ہو کہ کفار تمہیں فتنہ (جنگ) میں ڈال گے چونکہ کفار تمہارے کھلے دشمن ہیں۔ چنانچہ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسلمانوں کے درمیان موجود ہوں تو ان کے لیے نماز قائم کریں ۔۔۔ سے لے کر ۔۔۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے کفار کے لیے رسوا کن عذاب تیار کر رکھا ہے ، تک یوں اس طرح اللہ تعالیٰ نے نماز خوف کا حکم نازل کیا ۔